٢٠٦٧٧ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن أبي إسحاق قال: (لما) (١) (أسلم) (٢) عكرمة بن أبي جهل (أتى) (٣) النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه! واللَّه لا أترك مقاما قمته (ليصد) (٤) (به) (٥) عن سبيل اللَّه إلا قمت مثليه في سبيل اللَّه، ولا أترك نفقة (أنفقتها ليصد) (٦) بها عن سبيل اللَّه (إلا أنفقت مثليها في سبيل اللَّه) (٧) ⦗١١٥⦘ فلما كان يوم اليرموك نزل (فترجل) (٨) فقاتل قتالًا شديدًا، فقتل (فوجد) (٩) به (بضع وسبعون) (١٠) من بين طعنة ورمية وضربة (١١).حضرت ابو اسحاق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرلیا تو وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے اللہ کے راستے سے روکنے میں جتنی طاقت خرچ کی ہے میں اللہ کے راستے کی طرف لانے میں اس سے دوہری طاقت خرچ کروں گا اور میں نے اللہ کے راستے سے روکنے میں جتنا مال خرچ کیا ہے میں اللہ کے راستے میں اس سے دوگنا مال خرچ کروں گا۔ جنگ یرموک میں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہاپنی سواری سے اترے اور پیدل لڑتے ہوئے زبردست لڑائی کی اور شہید ہوگئے۔ ا ن کے جسم پر نیزوں، تیروں اور تلواروں کے ستر سے زیادہ زخم تھے۔