حدیث نمبر: 20594
٢٠٥٩٤ - حدثنا يزيد بن هارون أنا المسعودي عن أبي إسحاق قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ يسأله (أن) (١) (يعطيه) (٢) سيفًا [فقال لعلي: "إن (أعطيتك) (٣) سيفًا تقوم به في (الكيول) (٤) "، قال: فأعطاه رسول اللَّه ﷺ سيفًا] (٥) فجعل يضرب به المشركين وهو يقول: إني (امرء) (٦) (بايعني) (٧) خليلي … ونحن عند أسفل (النخيل) (٨) (ألا) (٩) (أقوم) (١٠) الدهر في (الكيول) (١١) … أضرب بسيف اللَّه والرسول (١٢)مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ مجھے ایک تلوار دیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں تلوار دوں لیکن تم پچھلی صف میں کھڑے ہو جاؤ۔ حضور ﷺ نے اس کو تلوار دی وہ مشرکین سے لڑائی کرتا جاتا تھا، ساتھ ساتھ یہ شعر پڑھتا تھا۔ : میں وہ شخص ہوں کہ مجھ سے میرے خلیل نے کھجور کے درختوں کے نیچے کھڑے ہو کر یہ وعدہ لیا ہے کہ میں پچھلی صف میں نہ کھڑا رہوں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی تلوار کو لے کر دشمنوں سے جنگ کروں۔
حواشی
(١) في [ب]: (عن).
(٢) في [ب]: (تعطيه).
(٣) في [جـ]: (أعطيك).
(٤) في [أ، ب]: (الليول)، وفي [س، هـ]: (الكبول)، وفي [ع]: (الكتول).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [ز].
(٦) في [س]: (أمراء).
(٧) في [ط]: (يا يعني).
(٨) في [س]: (التخيل)، وفي [أ، ب]: (النخيلي).
(٩) في [جـ]: (أن لا).
(١٠) في [س، ز]: (قوم).
(١١) في [أ، ب]: (الليول)، وفي [س، هـ]: (الكبول)، وفي [ع]: (الكتول).