٢٠٥٩١ - حدثنا وكيع بن الجراح نا كهمس عن سيار بن (منظور) (١) عن أبيه قال: حدثني (ابن) (٢) (عبد اللَّه) (٣) بن سلام قال: تجهزت غازيًا فلما وضعت رجلي في رجلي في (الغرز) (٤) قال لي أبي: يا بني اجلس! قلت: ألا كان هذا قبل ⦗٧١⦘ أن (أتجهز) (٥) وأنفق؟ قال: أردت أن يكتب لي أجر غاز، وإنها كربة تجيء من هاهنا وأشار بيده نحو الشام -فإن أدركتها فسوف تراني كيف (أفعل) (٦)، وإن لم أدركها (فعجل) (٧) (إليها) (٨) (٩).حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں جہاد کی تیاری کر کے نکلنے لگا تو میرے والد نے مجھ سے فرمایا : ٹھہر جاؤ اے میرے بیٹے ! میں نے کہا آپ مجھے پہلے نہیں روک سکتے تھے جب میں نے تیاری نہیں کی تھی اور اس پر روپے خرچ نہیں کیے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں چاہتا تھا کہ تمہارے لیے مجاہد کا اجر لکھ دیا جائے۔ انہوں نے شام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس طرف سے ایک مصیبت آنے والی ہے اگر میں نے اسے پا لیا تو تم دیکھو گے میں اس میں کیا کرتا ہوں اور اگر میں اسے نہ پاسکا تو تم جھپٹ کر اس کی طرف لپکنا۔