حدیث نمبر: 20589
٢٠٥٨٩ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون عن محمد قال: جاءت (كتيبة) (١) من قبل (المشرق) (٢) (٣) من (كتائب) (٤) الكفار، فلقيهم رجل من الأنصار فحمل عليهم فخرق الصف حتى خرج ثم (كر) (٥) راجعًا، (فصنع) (٦) (مثل) (٧) ذلك مرتين أو ثلاثًا، فإذا سعد بن هشام (٨) (فذكر) (٩) ذلك لأبي هريرة فتلا هذه الآية: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ﴾ [البقرة: ٢٠٧] (١٠).مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ کفار کا ایک لشکر مشرق کی طرف سے آیا تو انصار کے ایک آدمی نے ان پر حملہ کیا اور ان کی صفوں کو چیرتا ہوا دوسری طرف سے نکل گیا، پھر پیچھے سے ان پر حملہ آور ہوا اور ان کی صفوں کو چیرتا ہوا باہر نکل آیا۔ اس نے دو یا تین مرتبہ ایسا کیا، جب دور سے دیکھا گیا تو وہ حضرت سعد بن ہشام تھے۔ اس بات کا ذکر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کیا گیا تو انہوں نے یہ آیت پڑھی : : کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا کی خاطر اپنے نفس کو فروخت کردیتے ہیں۔ (البقرۃ : ٢٠٧)
حواشی
(١) في [س]: (كتبة)، وفي [ك]: (كتبهه).
(٢) في [ز]: (المشركين).
(٣) في [ز، ك]: زيادة (و).
(٤) في [ز، ك]: (كتاب).
(٥) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (فكبر).
(٦) في [س]: (الصنع).
(٧) في [ك]: (من).
(٨) كذا في جميع النسخ وفي الاستذكار ٥/ ١٣٣، وتفسير السمرقندي ١/ ١٥٦، وفي الإصابة ٦/ ٥٤٣، والدر المنثور ١/ ٥٧٧، وتفسير ابن جرير ٢/ ٣٢١، وشعب الإيمان للبيهقي (٣٢١١)، والزهد لابن المبارك ١/ ٢٩٥، أن القصة لوالده هشام بن عامر.
(٩) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (يذكر).