حدیث نمبر: 20585
٢٠٥٨٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الأسود بن قيس عن (نبيح) (١) عن جابر قال: قال لي (٢) أبي عبد اللَّه: أي بُني، لولا نُسيّات أخلفهن من بعدي من (بنات) (٣) وأخوات (لأحببت) (٤) أن أقدمك أمامي، ولكن كن في (نظاري) (٥) المدينة قال: فلم ألبث أن جاءت بهما عمتي قتيلين -يعني أباه وعمه- قد (عرضتهما) (٦) على بعير (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ اے میرے بیٹے ! اگر مجھے ان بچیوں کی فکر نہ ہوتی تو میں میدان جنگ میں تمہیں اپنے سے پہلے بھیجتا، لیکن ان کی دیکھ بھال کے لیے تم یہاں مدینہ میں رہ جاؤ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ دنوں بعد میری پھوپھی میرے والد اور میرے چچا کی نعشوں کو ایک اونٹ پر لاد کرلے آئیں۔
حواشی
(١) في [س، ط]: (سح).
(٢) في [س]: زيادة (عبد اللَّه).
(٣) في [س، ط]: (نبات).
(٤) في [س]: (لأجبت).
(٥) أي: مراقبًا للعدو غير مشارك في القتال، وفي [س، ط]: (بطار)، وفي [أ، ب]: (بطاري)، وفي [هـ]: (نظار).
(٦) في [ط]: (عرفتهما).