حدیث نمبر: 20578
٢٠٥٧٨ - حدثنا يزيد بن هارون أنا أبو هلال نا محمد بن سيرين قال: غارت (خيل) (١) (للمشركين) (٢) على سرح المدينة فخرج رسول اللَّه ﷺ وجاء أبو قتادة، ⦗٦٤⦘ وقد رجّل شعره فقال رسول اللَّه ﷺ: "إني لأرى شعرك (حبسك) (٣)؟ " فقال: لآتينك برجل سلم، قال: (و) (٤) كانوا يستحبون أن يوفروا شعورهم (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مشرکین کے گھڑ سواروں نے مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کردیا۔ حضور رضی اللہ عنہان کو بھگانے کے لیے روانہ ہوئے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ تھوڑی دیر بعد آئے انہوں نے بالوں پر کنگھی کی ہوئی تھی۔ حضور رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ شاید تمہارے بالوں نے تمہیں روکے رکھا۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں آٔپ کے پاس ایک آدمی قیدی بنا کر لاؤں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ بالوں کو درست رکھنا پسند کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [ط]: (خل).
(٢) في [جـ، ز، ك]: (المشركين).
(٣) في [س]: (جهك)، وفي [ب]: (حسبك).
(٤) في [ز]: سقط (و).