حدیث نمبر: 20577
٢٠٥٧٧ - حدثنا يزيد بن هارون أنا (حريز) (١) (بن) (٢) عثمان نا أبو منيب (الجرشي) (٣) أن رجلًا نزل على تميم وسافر معه فرآه قصرّ في السفر عما كان عليه في أهله فقال: رحمك اللَّه، أراك قد قصرت عما كنت عليه في أهلك؟ فقال: أو لا يكفيني أن (يكون) (٤) لي أجر صائم وقائم.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو منیب جرشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کا مہمان بنا اور ان کے ساتھ اللہ کے راستے میں سفر پر نکلا۔ سفر میں نکل کر اس نے اپنے معمول کی عبادت سے کم عبادت کی۔ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ اللہ تم پر رحم فرمائے ! تم نے اپنے معمول سے کم عبادت کیوں کی ؟ اس نے کہا : اس لیے کہ اللہ کے راستے میں نکلنے کی وجہ سے مجھے دن کو روزہ رکھنے والوں اور رات کو قیام کرنے والوں کے برابر ثواب مل رہا ہے وہ میرے لیے کافی ہے۔
حواشی
(١) في [أ، س، هـ]: (جرير).
(٢) في [هـ]: (عن).
(٣) في [أ، ب، س]: (الحرشي)، وفي [ز]: (الحرني).
(٤) سقط من: [هـ].