٢٠٥٥٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد اللَّه بن عبد الرحمن عن أنس قال: اتكأ رسول اللَّه ﷺ عند ابنة ملحان قال: فأغفى فاستيقظ وهو يتبسم قال: (فقالت) (١): يا رسول اللَّه (صلى اللَّه عليك) (٢) مم (ضحكك؟) (٣) قال: "من أناس من أمتي (يغزون) (٤) هذا (البحر) (٥) الأخضر، مثلهم (مثل) (٦) الملوك على الأسرة" قال: فقالت يا رسول اللَّه! ادع اللَّه أن يجعلني منهم، فقال: "اللهم اجعلها منهم"، ⦗٥٤⦘ قال: فنكحت عبادة بن الصامت فركبت مع ابنة (قرظة) (٧) فلما (قفلت) (٨) وقصت بها دابتها (فقتلتها) (٩) فدفنت ثمَّ (١٠).حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر ٹیک لگائے تشریف فرما تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند طاری ہوگئی، کچھ دیر بعد آپ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔ حضرت بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ سبز سمندر میں جہاد کریں گے، قیامت کے دن وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! دعا فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل فرما دے۔ حضور ﷺ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! اسے بھی ان میں شامل فرما دے۔ اس کے بعد ان کا نکاح حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوگیا۔ بعد ازیں وہ اپنے بیٹے حضرت قرظہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سوار ہو کر سمندری سفر پر روانہ ہوئیں، واپس آتے ہوئے اپنی سواری سے گر کر شہید ہوگئیں اور وہیں دفن ہوئیں۔