٢٠٥٣٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن سالم بن أبي الجعد عن شرحبيل بن السمط قال: قلنا لكعب بن مرة: حدثنا يا كعب عن رسول اللَّه ﷺ (واحذر) (١)! فقال: سمعت رسول اللَّه ﷺ (٢) يقول: "ارموا، من بلغ (العدو) (٣) بسهم (رفعه) (٤) اللَّه به درجة"، فقال له عبد الرحمن (بن أبي النحام) (٥): يا رسول (اللَّه! و) (٦) ما الدرجة؟ قال: " (أما الدرجة) (٧) أما إنها ليست (بعتبة) (٨) (أبيك) (٩) ولكن ما بين الدرجتين مائة عام"، (١٠) يا كعب! حدثنا عن رسول اللَّه ﷺ (١١) واحذر! (قال) (١٢): سمعت رسول اللَّه ﷺ (يقول) (١٣): "من شاب في سبيل اللَّه (شيبة) (١٤) كانت له نورًا يوم القيامة، ⦗٤٥⦘ (ومن) (١٥) (رمى) (١٦) بسهم في سبيل اللَّه كان (كمن) (١٧) أعتق رقبة" (١٨).حضرت شرحبیل بن سمط رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے کعب رضی اللہ عنہ ! ہمیں حضور ﷺ کی بیان کردہ کوئی حدیث سنائیں اور اللہ سے ڈریں ! حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ دشمن پر تیر چلاؤ۔ جس کا تیر دشمن کو لگ گیا اللہ تعالیٰ جنت میں اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتے ہیں۔ حضور ﷺ کا یہ ارشاد سن کر حضرت عبد الرحمن بن ابی نحام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! وہ درجہ کتنا ہے ! حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ درجہ تمہارے باپ کی زمین جتنا نہیں بلکہ دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ ہم نے پھر کہا اے کعب رضی اللہ عنہ ! حضور ﷺ کی بیان کردہ کوئی حدیث سنائیں اور اس سے ڈریں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کے بال اللہ کے راستے میں سفید ہوئے اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا اور جس شخص نے اللہ کے راستہ میں تیر چلایا یہ اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک غلام آزاد کیا۔