٢٠٥٠٤ - حدثنا أبو أسامة نا إسماعيل (عن) (١) قيس عن (مدرك) (٢) بن عوف الأحمسي قال: كنت عند عمر إذ جاءه رسول النعمان بن مقرن فسأله عمر عن الناس فقال: (أصيب) (٣) فلان وفلان (و) (٤) آخرون لا أعرفهم. فقال عمر: لكن اللَّه يعرفهم، فقال: يا أمير المؤمنين (و) (٥) رجل شرى نفسه، فقال مدرك بن عوف: ذلك واللَّه خالي يا أمير المؤمنين! (٦) زعم (الناس) (٧) أنه (ألقى) (٨) بيده إلى التهلكة، فقال عمر: كذب أولئك (و) (٩) لكنه ممن اشترى (الآخرة) (١٠) بالدنيا (١١).حضرت مدرک بن عوف احمسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ نعمان بن مقرن رحمہ اللہ کا قاصد آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے مجاہدین کی صورت حال پوچھی تو اس نے بتایا کہ فلاں فلاں شخص شہید ہوگئے اور کچھ ایسے لوگ بھی شہید ہوئے جنہیں میں نہیں جانتا۔ اس شخص نے کہا کہ اے امیر المؤمنین ! ایک آدمی ایسا بھی تھا جو خود کو موت کے لیے پیش کر رہا تھا۔ اس پر حضرت مدرک بن عوف رحمہ اللہ نے کہا کہ اے امیر المؤمنین ! خدا کی قسم وہ میرے ماموں تھے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے خود کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈالا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ لوگ جھوٹ کہتے ہیں یہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے دنیا کے بدلے آخرت کو خرید لیا۔