٢٠٥٠٣ - حدثنا أبو أسامة نا كهمس (بن الحسن) (١) عن أبي العلاء (عن ابن الأحمس) (٢) قال: قلت لأبي ذر: حديث بلغني عنك عن نبي اللَّه، قال: هات! إني لا (أخالني) (٣) (أن) (٤) (أكذب) (٥) على رسول اللَّه ﷺ بعد إذ سمعته منه، قال: قلت: ذكرت: "ثلاثة يحبهم اللَّه"، قال: سمعته وقلته! "أما (الذين يحب) (٦) اللَّه، فرجل لقي فئة فانكشفت (فئته) (٧)، فقاتل من ورائهم حتى يقتل أو يفتح اللَّه له، ورجل أسرى مع قوم حتى (يجيئون) (٨) (لأرضٍ) (٩) فنزلوا فقام يصلي حتى (أيقظهم) (١٠) (لرحيلهم) (١١)، ورجل كان له جار سوء (فيصبر) (١٢) على أذاه" (١٣).حضرت ابن احمس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے آپ کا بیان کردہ ایک ارشاد نبوی ﷺ پہنچا ہے۔ انہوں نے فرمایا : بیان کرو، میرے خیال میں، میں نے کبھی حضور ﷺ کی طرف کسی جھوٹی بات کو منسوب نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ آپ نے بیان کیا ہے کہ تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس بات کو سنا ہے اور بیان کیا ہے کہ جن تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے ان میں ایک تو وہ آدمی جو کسی جماعت سے قتال کرے، وہ جماعت غالب آنے لگے تو یہ پھر بھی ان سے لڑتا ہوا شہید ہوجائے یا اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے فتح عطا فرما دیں۔ دوسرا وہ آدمی جو رات کو لوگوں کے ساتھ سفر کرے، جب وہ سب تھک کر لیٹ جائیں تو یہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور پھر لوگوں کو آگے بڑھنے کے لیے جگائے۔ تیسرا وہ آدمی جس کا پڑوسی کوئی برا شخص ہو اور وہ اس کی تکالیف پر صبر کرے۔