٢٠٤٨٤ - حدثنا وكيع نا مغيرة بن زياد عن مكحول قال: (جاء) (١) رجل إلى النبي ﷺ فقال يا رسول اللَّه! إن الناس قد غزوا، (وحبسني شيء) (٢)، (فدلني) (٣) على عمل يلحقني بهم قال: "هل تستطيع قيام الليل؟ " قال: أتكلف ذلك! (قال) (٤): "هل تستطيع صيام النهار؟ " قال: نعم! قال: "فإن إحياءك (ليلتك) (٥)، وصيامك نهارك كنومة أحدهم" (٦).حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ لوگوں نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور میں کسی مجبوری کی وجہ سے رہ گیا، مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے کہ میں ان کے برابر ہو جاؤں، حضور ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم رات کو قیام کرنے کی طاقت رکھتے ہو ؟ اس نے کہا : میں ایسا کرلوں گا۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا تم ہر دن کو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہو ؟ اس شخص نے کہا کہ جی ہاں ! میں ایسا کرلوں گا، حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا رات کو قیام کرنا اور دن کو روزہ رکھنا ان کی نیند کے برابر نہیں ہوسکتا۔