حدیث نمبر: 20481
٢٠٤٨١ - حدثنا وكيع نا ثور عن عبد الرحمن بن (أبي عوف) (١) عن مجاهد بن رباح عن ابن عمر قال: ألا أنبئكم بليلة هي أفضل من ليلة القدر؟ حارس حرس في سبيل اللَّه ﷿ في (أرض) (٢) خوف، لعله ألا يؤوب إلى أهله (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں تمہیں ایسی رات بتاتا ہوں جو شب قدر سے بھی زیادہ افضل ہے ؟ اس پہرے دار کی رات ہے جو اللہ کے راستے میں ایسی جگہ پہرہ دے جہاں سے اسے اپنے گھر والوں کے پاس واپس نہ جانے کا خوف ہو۔
حواشی
(١) في [هـ]: (عائذ)، وانظر: التاريخ الكبير ٧/ ٤١٢، والجرح والتعديل ٨/ ٣٢٠، والثقات ٥/ ٤١٩، والكاشف ٢/ ٢٤١.
(٢) في [ط]: (أزنص).
(٣) مجهول؛ لجهالة مجاهد بن رباح، أخرجه النسائي في الكبرى (٨٨٦٨)، والحاكم ٢/ ٧٣، والبيهقي ٩/ ١٤٩، والروياني (١٤٢٠).