حدیث نمبر: 20479
٢٠٤٧٩ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن محمد بن إسحاق عن إسماعيل بن أمية عن أبي الزبير عن ابن عباس زاد فيه ابن إدريس عن أبي الزبير عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لما أصيب إخوانكم (٢) جعل اللَّه أرواحهم في أجواف طير خضر، (ترد أنهارها) (٣) وتأكل (من) (٤) ثمارها، وتسرح في الجنة حيث شاءت، (فلما) (٥) رأوا (حسن) (٦) (مقيلهم) (٧) ومطعمهم ومشربهم". ⦗٢٠⦘ قالوا: يا ليت قومنا يعلمون (بما) (٨) صنع اللَّه لنا، كي يرغبوا في الجهاد ولا (ينكلوا) (٩) عنه! فقال: "اللَّه تعالى: فإني مخبر عنكم ومبلغ إخوانكم، ففرحوا واستبشروا بذلك، فذلك قوله تعالى: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ (أَمْوَاتًا) (١٠) بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ [آل عمران: ١٦٩]، إلى قوله تعالى: ﴿وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ (الْمُؤْمِنِينَ) (١١)﴾ " (١٢) [آل عمران: ١٧١].
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے بھائی شہید ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی روحیں سبز پرندوں میں ڈال دیتا ہے۔ وہ جنت کی نہروں پر جاتے ہیں جنت کا پھل کھاتے ہیں اور جنت میں جہاں چاہتے ہیں سیر کرتے ہیں جہاں اپنے عمدہ ٹھکانے اور بہترین کھانے پینے کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کاش ہماری قوم ان چیزوں کو جان لے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے پیدا کی ہیں۔ تاکہ وہ بھی جہاد کا شوق رکھیں اور اس سے پیچھے نہ ہٹیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں تمہارے بھائیوں کو ان باتوں سے مطلع کردیتا ہوں۔ اور پھر وہ خوش ہوجاتے ہیں اور مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس سے مرا قرآن مجید کی یہ آیات ہیں۔ ترجمہ : جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا، وہ مرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ اللہ کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے۔ جو کچھ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے اور شہید ہو کر ان میں شامل نہیں ہو سکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں کہ قیامت کے دن ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے اور اللہ کے انعامات اور فضل سے خوش ہوا ہے اور اس سے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (آل عمران : ١٦٩۔ ١٧١)

حواشی
(١) في [جـ]: زيادة (محمد).
(٢) في [هـ]: زيادة (بأحد).
(٣) في [ط]: (برد أبهارها).
(٤) في [أ، ب، ط]: سقطت (من).
(٥) في [س]: سقطت.
(٦) في [س]: سقطت.
(٧) في [أ]: (مقتلهم).
(٨) في [هـ]: (ما).
(٩) في [ط، هـ]: (يتكلوا).
(١٠) في [أ، ب]: (أموات).
(١١) في [س]: (المحسنين).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20479
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن إسحاق صدوق، وصرح ابن إسحاق بسماعه عند أحمد (٢٣٨٨)، وأخرجه أبو داود (٢٥٢٠)، وهناد في الزهد (١٥٥)، وابن أبي عاصم في الجهاد (١٩٤)، والطبري ٤/ ١٧٠، وابن هشام ٣/ ١٢٦، وأبو يعلى (٢٣٣١)، والحاكم ٢/ ٨٨، والبيهقي ٩/ ١٦٣، والواحدي في أسباب النزول (ص ٨٥)، وعبد بن حميد (٦٧٩)، وابن المبارك في الجهاد (٦٢)، وابن جرير في التفسير ٤/ ١٧٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20479، ترقيم محمد عوامة 19678)