حدیث نمبر: 20466
٢٠٤٦٦ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن شعبة عن قتادة (و) (١) حميد عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما (من) (٢) نفس تموت لها عند اللَّه خير (يُسرُّهَا) (٣) (يتمنى) (٤) أن يرجع إلى الدنيا ولا أن لها الدنيا وما (فيها) (٥) إلا الشهيد فيتمنى أن يرجع فيقتل في سبيل اللَّه لما يرى من فضل الشهادة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بھی کوئی انسان مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اتنا کچھ ضرور عطا فرما دیتے ہیں کہ دنیا میں واپس جانا یا دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب کا حصول اس کے نزدیک کوئی خوشگوار چیز نہیں ہوتی۔ سوائے شہید کے، کیونکہ وہ جب شہادت کا اجر دیکھے گا تو خواہش کرے گا کہ دنیا میں واپس چلا جائے اور اللہ کے راستہ میں شہید کردیا جائے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) في [ب، جـ، ك]: سقط (من)، وفي [أ]: (بالعس).
(٣) في [س، ط]: (بسرها).
(٤) في [أ، ب، جـ، ك]: سقط (يتمنى).
(٥) في [جـ، ك]: (فها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20466
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، والحديث أخرجه البخاري (٢٧٩٥)، ومسلم (١٨٧٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20466، ترقيم محمد عوامة 19665)