حدیث نمبر: 20463
٢٠٤٦٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن عمارة عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أعد اللَّه لمن خرج في سبيله -لا يخرج إلا (لجهاد) (١) في سبيلي وإيمان بي وتصديق (برسولي) (٢) - فهو علي ضامن أن أدخله الجنة وأن أرجعه إلى مسكنه الذي خرج منه نائلًا ما نال من أجر أو غنيمة" (٣) قال: والذي نفس محمد بيده! (لولا) (٤) أن أشق على المسلمين ما قعدت (خلاف) (٥) سرية تغزو في سبيل ⦗١١⦘ اللَّه أبدا، ولكن لا أجد سعة (فأحملهم) (٦) ولا يجدون سعة فيتبعوني، ولا تطيب أنفسهم فيتخلفون بعدي، والذي نفس محمد بيده لوددت (أني) (٧) (أغزو) (٨) في سبيل اللَّه فأقتل، ثم أغزو فأقتل، (ثم أغزو فاقتل) (٩) " (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے اس شخص سے وعدہ کیا ہے جو میرے راستہ میں مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے رسول کی تصدیق کرتے ہوئے جہاد کے لیے نکلے کہ میں اسے اپنی ذمہ داری پر جنت میں داخل کروں گا یا اسے اس کے گھر اجر و غنیمت کے ساتھ واپس لوٹاؤں گا۔ یہ فرما کر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے ! کہ اگر مجھے مسلمانوں پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا۔ لیکن چونکہ میرا یہاں رہنا ضروری ہوتا ہے اس لیے میں لوگوں کو روانہ کردیتا ہوں اور چونکہ ان کا جانا ضروری ہوتا ہے اس لیے وہ میری بات مان لیتے ہیں۔ ان کے دل اس بات پر خوش نہیں ہوتے کہ وہ مجھے پیچھے چھوڑ دیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے ! میری خواہش یہ ہے کہ میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں پھر مجھے شہید کیا جائے، پھر جہاد کروں پھر مجھے شہید کیا جائے، پھر جہاد کروں اور پھر مجھے شہید کردیا جائے۔

حواشی
(١) في [س، ز]: (الجهاد).
(٢) في [ط، هـ]: (برسلي).
(٣) في [هـ]: زيادة (ثم).
(٤) في [س]: (مولا).
(٥) في [س، ط]: (خالف).
(٦) في [أ، ب، س]: (فاتبعهم).
(٧) في [هـ]: (أن).
(٨) في [أ]: (اغرو).
(٩) في [أ، ب، س]: سقط ما بين القوسين؛ وفي [هـ]: زيادة (ثم أغزو فأقتل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجهاد / حدیث: 20463
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٦)، ومسلم (١٨٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20463، ترقيم محمد عوامة 19662)