٢٠٤٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن عامر قال: جاءت امرأة إلى علي طلقها زوجها فزعمت أنها حاضت في شهر ثلاث حيض وطهرت عند كل قرء وصلّت، فقال علي لشريح: قل (فيها) (١) فقال شريح: إن جاءت (بينة) (٢) من بطانة أهلها ممن يرضى بدينه وأمانته يشهدون أنها حاضت في شهر ثلاث حيض (٣) طهرت عند كل (قرء) (٤) (و) (٥) صلت فهي صادقة وإلا فهي كاذبة، فقال (علي) (٦): (قالون) (٧)! وعقد ثلاثين بيده يعني بالرومية (٨).حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت جس کے خاوند نے اسے طلاق دے دی تھی، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اس کا خیال تھا کہ اسے ایک مہینے میں تین حیض آچکے ہیں اور وہ ہر حیض سے پاک ہو کر نماز پڑھ چکی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت شریح رحمہ اللہ کو اس کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر اس کے رشتہ داروں میں سے دیندار اور امانتدار لوگ گواہی دیں کہ اسے ایک مہینے میں تین حیض آئے ہیں اور یہ ہر حیض سے پاک ہوکر نماز ادا کرتی رہی ہے تو یہ سچی ہے اور اگر وہ گواہی نہ دیں تو یہ جھوٹی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس جواب پر رومی انداز میں پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔