مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في إحداد المرأة على زوجها؟ باب: عورت کا اپنے خاوند کی وفات پر سوگ منانا
٢٠٤٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن يحيى بن سعيد عن حميد ابن نافع أنه سمع زينب بنت أم سلمة (تحدث) (١) أنها سمعت أم سلمة وأم حبيبة (تذكران) (٢) أن امرأة أتت النبي ﷺ فذكرت أن ابنة لها توفي عنها زوجها، فاشتكت عينها فهي تريد أن تكحلها، فقال رسول اللَّه ﷺ: "قد كانت (إحداكن) (٣) (ترمي) (٤) بالبعرة (على) (٥) رأس الحول، وإنما هي أربعة أشهر وعشرًا" (٦).حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہ ما روایت کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ ایک خاتون حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ ان کی ایک بیٹی کا خاوند انتقال کرگیا ہے۔ اس کی آنکھ میں تکلیف ہے اور وہ سرمہ لگانا چاہتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ایک سال پورے ہونے پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی، اب تو عدت چار مہینے دس دن ہے۔ حضرت حمید رضی اللہ عنہ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ اونٹ کی مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں عورت خاوند کے انتقال کے بعد ایک بدترین کمرے میں جابیٹھتی تھی، ایک سال تک وہیں رہتی جب سال پورا ہوجاتا تو باہر نکلتی اور اپنے پیچھے اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی۔