مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
الرجل يتزوج المرأة وله غيرها فقيل: طلقها باب: اگر ایک آدمی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی عورت سے شادی کرے اور اس سے کہا جائے کہ اس کو طلاق دے دے تو کیاحکم ہے؟
٢٠٤٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا عبد اللَّه بن حبيب بن أبي ثابت قال: سألت الحكم ومجاهدًا عن رجل كانت عنده امرأة (قد دخل) (١) بها (فتزوج عليها) (٢) امرأة فقالت امرأته الأولى: أَجْعَلُ لك جعلًا على أن تطلقني تطليقة وتطلق امرأتك هذه تطليقة، ففعل، فقال الحكم: بانتا جميعًا.حضرت عبد اللہ بن حبیب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کسی آدمی کے نکاح میں کوئی ایسی عورت ہو جس سے اس نے دخول کیا ہو۔ پھر وہ ایک اور عورت سے شادی کرلے اور پہلی بیوی یہ کہے کہ میں تمہیں اس بات پر اتنا معاوضہ دیتی ہوں کہ تم مجھے بھی ایک طلاق دے دو اور اس عورت کو بھی ایک طلاق دے دو ، اس آدمی نے ایسا ہی کیا تو اس صورت میں کیا حکم ہے ؟ حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں بائنہ ہوجائیں گی۔ حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس سے دخول نہیں کیا وہ بائنہ ہوجائے گی اور دوسری پر ایک طلاق واقع ہوگی۔