مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في قوله (تعالى): ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان﴾ باب: قرآن مجیدکی آیت {الطلاق مرتان فإمساک بمعروف أو تسریح باحسان} کی تفسیر
حدیث نمبر: 20361
٢٠٣٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا (أبو معاوية) (١) عن داود الأودي عن الشعبي (قال) (٢): ﴿(لَا) (٣) تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا﴾ قال: لا تدري لعلك تندم فيكون لك سبيل إلى الرجعة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { لاَ تَدْرِی لَعَلَّ اللَّہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِکَ أَمْرًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مرادیہ ہے کہ آپ نہیں جانتے کہ شاید بعد میں آپ نادم ہوں اور آپ کے لئے رجوع کا راستہ بن جائے۔
حواشی
(١) في [س]: (أبو داود).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٣) سقط من: [س].