مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في قوله (تعالى): ﴿الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان﴾ باب: قرآن مجیدکی آیت {الطلاق مرتان فإمساک بمعروف أو تسریح باحسان} کی تفسیر
حدیث نمبر: 20355
٢٠٣٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن (سماك) (١) عن عكرمة قال: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾، قال: إذا أراد (الرجل) (٢) أن يطلق امرأته (فليطلقها) (٣) تطليقتين، (فإن) (٤) أراد أن يراجعها كانت (له) (٥) ⦗٤٩٠⦘ (عليها) (٦) رجعة، (فإن) (٧) شاء طلقها أخرى (فلا) (٨) تحل له حتى تنكح زوجا غيره.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے تو اسے دو طلاقیں دے دے، پھر جب وہ اس سے رجوع کرنا چاہے تو کرلے اور اگر ایک چاہے تو ایک طلاق دے دے، اس تیسری طلاق کے بعد وہ عورت اس خاوند کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی اور مرد سے شادی نہ کرلے۔
حواشی
(١) في [س]: (سمك).
(٢) سقط من: [أ، ب، س، ط، ك].
(٣) في [هـ]: (فيطلقها).
(٤) سقط من: [س].
(٥) سقط من: [ك].
(٦) في [جـ]: (علها).
(٧) في [أ، ب، جـ، س، ط، ك]: (وإن).
(٨) في [جـ، ز، ك]: (فلم).