حدیث نمبر: 20353
٢٠٣٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن إدريس عن هشام عن أبيه قال: قال (رجل) (١) لأمرأته على عهد النبي ﷺ: لا (آويك) (٢) ولا تحلين مني، قالت: فكيف تصنع؟ قال: أطلقك حتى إذا دنا مضي عدتك راجعتك، (فخرعت) (٣)، فاتت النبي ﵇ فأنزل اللَّه تعالى: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾، قال: فاستقبله.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نہ تو تیرے قریب آؤں گا اور نہ تو میرے نکاح سے نکل سکے گی۔ عورت نے کہا کہ تم ایسا کس طرح کرو گے ؟ اس آدمی نے کہا کہ میں تجھے طلاق دوں گا اور جب تیری عدت پوری ہونے کا وقت قریب آئے گا تو میں تجھ سے رجوع کرلوں گا۔ وہ عورت پریشان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو اس موقع پر قرآن مجید کی آیت {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } نازل ہوئی۔ پھر لوگوں کی یہ کیفیت ہوتی تھی کہ طلاق دی ہوتی تھی یا نہ دی ہوتی تھی۔ (درمیانی صور ت کوئی نہ تھی)

حواشی
(١) في [ط]: (رجلًا).
(٢) في [أ، س، هـ]: (أقربك)، وانظر: تفسير ابن جرير ٢/ ٤٥٦، وأحكام القرآن للجصاص ٢/ ٧٣، والمحرر الوجير ١/ ٣٠٦، وتفسير القرطبي ٣/ ١٢٦.
(٣) في [أ، ب، هـ]: (فخرجت)، وفي [س، ط]: (فجزعت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20353
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20353، ترقيم محمد عوامة 19562)