مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
من كره الطلاق من غير ريبة باب: بغیر کسی وجہ کے طلاق دینا جن حضرات کے نزدیک ناپسندیدہ ہے
٢٠٣٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن ليث عن شهر بن حوشب قال: تزوج رجل (١) وامرأة على عهد النبي ﷺ فطلقها فقال له النبي ﷺ: "طلقتها؟ " قال: نعم، قال: "مِنْ بَأسِ؟ " قال: لا يا رسول اللَّه، ثم تزوج أخرى، ثم طلقها، فقال له رسول اللَّه ﷺ: (طلقتها؟) (٢) قال: نعم، قال: "من بأس؟ "، قال: لا يا رسول اللَّه، [ثم تزوج أخرى ثم طلقها، فقال له رسول اللَّه ﷺ: (أطلقتها؟) (٣) قال: نعم، قال: "من بأس؟ " قال لا يا رسول اللَّه] (٤) ﷺ فقال رسول اللَّه ﷺ في الثالثة: "إن اللَّه لا يحب كل ذوّاق من الرجال ولا كل ذوّاقة من النساء" (٥).حضرت شہر بن حوشب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے کسی عورت سے شادی کی، پھر اسے طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کوئی وجہ تھی ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ انہوں نے پھر کسی عورت سے شادی کی، پھر اسے طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کوئی وجہ تھی ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ انہوں نے پھر کسی عورت سے شادی کی، پھر اسے طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کوئی وجہ تھی ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو ہر مزے چکھنے والا مرد اور ہر مزے چکھنے والی عورت پسند نہیں ہیں۔