مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يتهم امرأته أن تكون (غيبت) (صكا) فحلف أنها قد فعلت باب: اگر ایک آدمی اپنی بیوی پر الزام لگائے کہ اس نے اس کے پیسے چرائے ہیں اور پھر اس بات پر قسم کھالے کہ اس نے واقعی ایسا کیا ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20322
٢٠٣٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود الطيالسي عن (حماد) (١) بن سلمة عن زياد الأعلم عن الحسن في امرأة (غيبت صك) (٢) رجل فقال: أنت طالق ثلاثًا إن لم (تكن) (٣) (غيبتها) (٤) فقال الحسن: إن كان صادقا فهي امرأته.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک عورت نے اپنے خاوند کے پیسے چرالئے تو آدمی نے کہا کہ اگر تو نے نہ چرائے ہوں تو تجھے تین طلاق۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی سچا ہے تو وہ اس کی بیوی رہے گی۔ حضرت حماد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس معاملے میں اس کی دینداری دیکھی جائے گی۔
حواشی
(١) في [س، ط، هـ]: (محمد).
(٢) في [أ، ب]: (عينت)، وفي [س، ط، هـ]: (ضنك)، وفي [ط]: (ضنكك)، وفي [جـ، ز، ك]: (صكك)؛ والصك معربة ورقة يكتب فيها المعاملات والديون، وقد تجمع على صكك كما في قول بشار:
(حرمت منك الوفا معذبتي … فعجلي بالسجل في صك)
وفي الزهد لأحمد (ص ٤١)، (أكون تحت العرش فيلقى إليَّ صكك فيها أسماء).
(٣) في [أ، ب، س]: (يكن).
(٤) في [أ، ب]: (عينتها)، وفي [هـ]: (عيبتها).