مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الأولياء والأعمام: أيهم أحق بالولد؟ باب: اولیاء اور چچوں میں سے بچے کا زیادہ حقدار کون ہے؟
٢٠٢٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع بن الجراح عن موسى بن عبيدة عن محمد ابن كعب أن امرأة من أهل البادية كانت عند رجل من بني عمها، (فمات) (١) عنها فتزوجها رجل من الأنصار، فجاء بنو عم الجارية فقالوا: (نأخذ) (٢) ابنتنا، قالت: إني أنشدكم اللَّه أن تفرقوا بيني وبين ابنتي؛ فأنا الحامل؛ وأنا المرضع؛ وليس أحد (أخير) (٣) (لقرب ابنتي) (٤) مني، (فأبوا) (٥)، (فقالت) (٦): موعدكم رسول اللَّه ﷺ ثم قال: خيرك رسول اللَّه ﷺ فقولي: أختار اللَّه والإيمان ودار المهاجرين والأنصار فقال النبي: "والذي نفسي بيده! لا (تذهبون) (٧) بها (ما بقيت) (٨) عُنِقُي في مكانها". وجاءوا إلى أبي بكر فقضى لهم بها فقال بلال: يا خليفة رسول اللَّه، شهدت هؤلاء النفر وهذه المرأة عند رسول اللَّه ﷺ اختصموا، فقضى بها لأمها، ⦗٤٦٢⦘ (فقال أبو بكر) (٩): وأنا والذي نفسي بيده! (لا يذهبون) (١٠) بها ما دامت عنقي في (مكانها) (١١)، فدفعها إلى أمها (١٢).حضرت محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیہات کی ایک عورت اپنے چچا زاد کے گھر میں تھی۔ (اس خاوند سے اس کی ایک بیٹی پیدا ہوئی) اس کے خاوند کا انتقال ہوگیا تو اس نے ایک انصاری مرد سے شادی کرلی۔ اس شادی کے بعد لڑکی کے چچا زاد آگئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کو لے جائیں گے۔ اس عورت نے کہا کہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتی ہوں کہ تم میرے اور میری بیٹی کے درمیان میں نہ آؤ۔ میں نے اس کو پیٹ میں اٹھایا ہے اور میں نے اس کو دودھ پلایا ہے۔ مجھ سے بڑھ کر کوئی اس بچی کا استحقاق نہیں رکھتا۔ لوگوں نے اس کی بات کا انکار کیا تو اس نے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو اور فیصلہ کرالو۔ پھر اس خاتون نے اپنی بچی سے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں اختیار دیں تو تم کہنا کہ میں نے اللہ کو، ایمان کو، مہاجرین اور انصار کے گھر کو اختیار کرلیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم ! جب تک میری جان ہے تم اسے نہیں لے جاسکتے۔ (حضور ﷺ کے وصال کے بعد) پھر وہ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نے بچی کا فیصلہ اس کے خاندان والوں کے حق میں کردیا۔ اس پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! میری موجودگی میں یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے، یہ عورت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچی کا فیصلہ عورت کے حق میں فرمایا تھا۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میر ی جان ہے جب تک میں زندہ ہوں تم اس بچی کو نہیں لے جاسکتے۔ پھر آپ نے وہ بچی اس کی ماں کو دے دی۔