حدیث نمبر: 20243
٢٠٢٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا مروان بن معاوية عن عاصم عن عكرمة قال: (خاصم) (١) عمر أم عاصم في عاصم إلى أبي بكر، فقضى لها به ما لم يكبر أو (تتزوج) (٢)، فيختار (لنفسه) (٣) قال: هي أعطف وألطف وأرق و (أحنا) (٤) وأرحم (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ام عاصم کو فریق بنا کر حضرت عاصم کی پرورش کا مسئلہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا۔ انہوں نے فیصلہ فرمایا کہ بچہ حضرت ام عاصم کے پاس رہے گا جب تک بالغ نہ ہوجائے اور یا جب تک شادی نہ کرلے۔ اور فرمایا کہ ماں بچے پر زیادہ مہربان، رحم کرنے والی، نرم دل اور شفقت کرنے والی ہوتی ہے۔

حواشی
(١) في [ط]: (عاصم).
(٢) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (يتزوج).
(٣) في [س]: (نفسه).
(٤) في [هـ]: (أرضى)، وفي [ز]: (أحيا).
(٥) منقطع؛ عكرمة لم يسمع من عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20243
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20243، ترقيم محمد عوامة 19455)