مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يحلف بالطلاق ليضربن (غلاما) أو (ليتزوجن) على امرأته فيموت قبل أن يفعل باب: اگر کوئی شخص طلاق کی قسم کھا کر کہے کہ وہ ضرور بضرور اپنے غلام کو مارے گا یااپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی اورعورت سے شادی کرے گا اور ایسا کرنے سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20193
٢٠١٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا معاذ بن (معاذ) (١) عن أشعث عن (الحكم) (٢) في رجل قال: إن لم أخرج إلى واسط فامرأته طالق، قال: يغشاها ولا يتوارثان.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر میں واسط کی طرف نہ گیا تو اس کی بیوی کو طلاق۔ اس صورت میں آدمی اپنی بیوی سے جماع کرے گا اور وہ دونوں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔ اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ وہ اس وقت تک اس سے جماع نہ کرے جب تک وہ کر نہ لے جس کا وہ کہہ رہا ہے۔
حواشی
(١) في [س]: (معاد)، وفي [أ]: (معاد بن معاز).
(٢) في [خ، ع]: (الحسن).