مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يحلف بالطلاق ليضربن (غلاما) أو (ليتزوجن) على امرأته فيموت قبل أن يفعل باب: اگر کوئی شخص طلاق کی قسم کھا کر کہے کہ وہ ضرور بضرور اپنے غلام کو مارے گا یااپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی اورعورت سے شادی کرے گا اور ایسا کرنے سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20192
٢٠١٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن يزيد عن أبي العلاء عن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن قالا في الرجل يقول لامرأته: إن لم أتزوج عليها، وإن لم أخرجك فأنت طالق، (قالا) (١): (لا يقربها) (٢)، وإن (ماتا) (٣) قبل ذلك لم يتوارثا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر میں نے تجھ پر کسی اور سے شادی نہ کی یا میں نے تجھے نہ نکالا تو تجھے طلاق ہے۔ اس صورت میں آدمی اپنی بیوی کے قریب نہیں جاسکتا اور اگر وہ دونوں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (قال).
(٢) في [أ، ب، س، ط]: (وإلا، لا يقربها).
(٣) في [خ، ع]: (مات).