مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يحلف بالطلاق ليضربن (غلاما) أو (ليتزوجن) على امرأته فيموت قبل أن يفعل باب: اگر کوئی شخص طلاق کی قسم کھا کر کہے کہ وہ ضرور بضرور اپنے غلام کو مارے گا یااپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی اورعورت سے شادی کرے گا اور ایسا کرنے سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20190
٢٠١٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن [مغيرة عن حماد في رجل قال: إن لم (آت) (١) البصرة فامرأته طالق، قال: فلم يأتها حتى ماتت ثم أتاها بعد، قال: لا ميراث له منها، إنما استبان (حنثه) (٢) الآن.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اگر یہ قسم کھائی کہ اگر وہ بصرہ نہ گیا تو اس کی بیوی کو طلاق ہے، پھر وہ بصرہ نہ گیا یہاں تک کہ اس کی بیوی کا انتقال ہوگیا اور پھر وہ اس کے انتقال کے بعد بصرہ چلا گیا۔ اس صورت میں عورت کو میراث نہیں ملے گی اور آدمی کی قسم کا ٹوٹنا اب متحقق ہوگا۔
حواشی
(١) في [س، هـ]: (يأت).
(٢) في [ط، هـ]: (حديثه).