مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يحلف بالطلاق ليضربن (غلاما) أو (ليتزوجن) على امرأته فيموت قبل أن يفعل باب: اگر کوئی شخص طلاق کی قسم کھا کر کہے کہ وہ ضرور بضرور اپنے غلام کو مارے گا یااپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی اورعورت سے شادی کرے گا اور ایسا کرنے سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20189
٢٠١٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن غيلان عن الحكم قال: امرأته طالق إن لم يضرب غلامه، (فأبق) (١)، قال: يجامعها (و) (٢) يتوارثان.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر وہ اپنے غلام کو نہ مارے تو اس کی بیوی کو طلاق ہے۔ پھر اس کا غلام بھاگ گیا۔ وہ دونوں جماع کرسکتے ہیں اور ایک دوسرے کے وارث بھی ہوں گے۔
حواشی
(١) في [س]: (فاتق).
(٢) سقط من: [ط].