مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يحلف بالطلاق ليضربن (غلاما) أو (ليتزوجن) على امرأته فيموت قبل أن يفعل باب: اگر کوئی شخص طلاق کی قسم کھا کر کہے کہ وہ ضرور بضرور اپنے غلام کو مارے گا یااپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی اورعورت سے شادی کرے گا اور ایسا کرنے سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20187
٢٠١٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم (بن بشير) (١) عن منصور عن الحسن في رجل قال لامرأته: هي طالق إن لم يتزوج عليها، قال: هي امرأته حتى يتزوج، فإن مات واحد منهما فلا ميراث بينهما.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیو ی سے کہا کہ اگر وہ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور عورت سے شادی نہ کرے تو اسے طلاق ہے۔ اس صورت میں جب یہ شادی کرلے تو اسے طلاق نہیں ہوگی۔ اگر دونوں میں سے کوئی ایک مرگیا تو ایک دوسرے کی میراث میں حصہ دار نہیں ہوں گے۔
حواشی
(١) سقط من: [س]، وفي [هـ]: (عن أبي بشر)، وفي [أ، ب، جـ]: (عن بشر)، وفي [ز]: (عن بشير).