مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
من قال: ترثه ما دامت في العدة منه إذا طلق وهو مريض باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مرض الموت کی حالت میں طلاق دے تو اگر عورت اس کی وفات کے وقت عدت میں ہوتو وارث ہوگی
حدیث نمبر: 20159
٢٠١٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن أشعث عن الشعبي أن أم (البنين) (١) بنت (عيينة) (٢) بن (حصن) (٣) كانت تحت عثمان بن عفان، فلما (حُصِر) (٤) طلقها، وقد كان أرسل إليها ليشتري منها ثمنها (فأبت) (٥) فلما (قتل) (٦) أتت عليًا فذكرت ذلك له فقال: تركها حتى إذا أشرف على الموت طلقها، فورّثها (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام بنین بنت عیینہ بن حصن ، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا کاشانۂ خلافت میں محاصرہ کیا گیا تو انہوں نے ام بنین کو طلاق دے دی۔ وہ ان کی طرف پیغام بھیجا کرتے تھے کہ ان سے ان کا ثمن خرید لیں لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد ام بنین نے اس بات کا تذکرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا پھر جب موت کے قریب ہوئے تو اسے طلاق دے دی اور اسے وارث بنادیا۔
حواشی
(١) في [س، ط، ك]: (السن)، وفي [أ، ب]: (أنس)، وفي [ز]: (اليس).
(٢) في [س]: (عنية).
(٣) في [ب، س، ك]: (حصين).
(٤) في [أ، س]: (حضر).
(٥) في [ط]: (قامت).
(٦) في [أ]: (قيل).
(٧) منقطع ضعيف؛ أشعث ضعيف، والشعبي عن عثمان منقطع.