مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
من قال: على الغائب نفقة فإن بعث وإلا طلق باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص بیوی سے دور چلا گیا ہو اس پربھی بیوی کانفقہ لازم ہے اگر وہ بھیجے تو ٹھیک وگرنہ طلا ق دے
حدیث نمبر: 20135
٢٠١٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير قال: (نا) (١) (عبيد اللَّه) (٢) بن عمر (عن نافع) (٣) (عن ابن عمر) (٤) قال: كتب عمر إلى أمراء الأجناد فيمن غاب عن نسائه من أهل المدينة (فأمرهم) (٥) أن يرجعوا إلى نسائهم، إما أن يفارقوا (و) (٦) إما أن يبعثوا بالنفقة، فمن فارق منهم فليبعث بنفقة ما ترك (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مختلف علاقوں کی طرف روانہ کردہ لشکروں کے سپہ سالاروں کو حکم لکھا تھا کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے دور ہیں انہیں حکم دو کہ وہ اپنی بیویوں کے پاس لوٹ جائیں۔ یا تو انہیں چھوڑ دیں یا انہیں نفقہ بھیجیں۔ جو اپنی بیوی کو چھوڑنا چاہتا ہے وہ اس نفقے کو بھی بھیجے جو اب تک نہیں بھیجا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (حدثنا).
(٢) في [أ، ب، س، ط، ك]: (عبد اللَّه)، وانظر: مصنف عبد الرزاق (١٢٣٤٦)، وعمدة القارئ ٢١/ ١٥، والمحلى ١٠/ ٩٣، والبدر المنير ٨/ ٣١٥.
(٣) سقط من: [س، ط].
(٤) سقط من: [ط، هـ].
(٥) في [جـ، ع]: (يأمرهم).
(٦) في [س]: سقط.