حدیث نمبر: 20076
٢٠٠٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن (سعيد) (١) عن قتادة أن (أسماء) (٢) بنت (عثمان) (٣) توفي زوجها، فرمدت عينها، فبعثت إلى عائشة تسألها فنهتها أن تكتحل بالإثمد، (فبعثت إليها: أني قد كنت عودته عينيّ، وإني قد خشيت عليها؟ فبعثت إليها: لا تكتحل بالإثمد) (٤) وإن (انفضخت) (٥) عينك (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امینہ بنت عثمان کے خاوند فوت ہوگئے، خاوند کی فوتیدگی کے بعد ان کی آنکھ میں تکلیف ہوگئی۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی کو بھیج کر پوچھا کہ بیماری کی صورت میں میں آنکھوں میں اثمد سرمہ لگایا کرتی تھی۔ مجھے اپنی آنکھ کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے تو کیا میں وہی سرمہ استعمال کرلوں ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اثمد سرمہ ہرگز نہ لگانا خواہ تمہاری آنکھ ہی ضائع ہوجائے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (سعد).
(٢) في [ع]: (أمة)، وفي [خ]: (أمينة).
(٣) في [جـ، ص]: (عميس).
(٤) في [أ، ب]: (فبعث إليها لا تكتحل بالإثمد)، وفي [س]: (فبعث إليها لا تكتحل بالإثمد).
(٥) في [س]: (انفصحت)، وفي [هـ]: (انفضحت).
(٦) منقطع؛ قتادة لا يروي عن عائشة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20076
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20076، ترقيم محمد عوامة 19309)