حدیث نمبر: 20059
٢٠٠٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد قال: إذا طلق الرجل امرأته تطليقة فإنه يستأذن عليها، وتلبس ما شاءت من الثياب و (الحلي) (١)؛ فإن لم يكن لهما إلا بيت واحد (فليجعلا) (٢) بينهما سترًا ويسلم إذا دخل.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تو وہ اس کے پاس آنے سے پہلے اجازت طلب کرے گا۔ البتہ عورت جیسے کپڑے اور زیورات چاہے استعمال کرسکتی ہے۔ اگر ان دونوں کے پاس ایک ہی کمرہ ہو تو درمیان میں پردہ ڈال لیں اور آدمی آنے سے پہلے سلام کرے۔

حواشی
(١) في [س]: (الحل).
(٢) في [س]: (فليجعل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20059
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20059، ترقيم محمد عوامة 19293)