حدیث نمبر: 20046
٢٠٠٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن يونس عن الحسن أنه كان يقول: إذا دخل عليها (فليستأذن) (١) وليتنحنح، ولا (يغترنها) (٢) بدخول.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب آدمی (اپنی طلاق یافتہ عدت گزارنے والی) بیو ی کے پاس جانے لگے تو اسے اپنی آمد کا احساس دلا دے اور گلاصاف کرنے کی آواز نکال لے، اچانک اس کے پاس بلا اطلاع داخل نہ ہو۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (فليستأنس)، وفي [جـ، ز، ط، ك]: (فليسأنس).
(٢) في [س]: (يقترنها)، وفي [جـ]: (يغربها)، وفي [ط]: (يعرفها)، وفي [أ، هـ]: (يقربها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 20046
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20046، ترقيم محمد عوامة 19283)