مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في المطلقة يستأذن عليها زوجها أم لا؟ باب: طلاق یافتہ عورت کا خاوند(جس کے پاس رجوع کا حق ہو) اس کے پاس آنے سے پہلے اجازت لے گا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 20046
٢٠٠٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن يونس عن الحسن أنه كان يقول: إذا دخل عليها (فليستأذن) (١) وليتنحنح، ولا (يغترنها) (٢) بدخول.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب آدمی (اپنی طلاق یافتہ عدت گزارنے والی) بیو ی کے پاس جانے لگے تو اسے اپنی آمد کا احساس دلا دے اور گلاصاف کرنے کی آواز نکال لے، اچانک اس کے پاس بلا اطلاع داخل نہ ہو۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (فليستأنس)، وفي [جـ، ز، ط، ك]: (فليسأنس).
(٢) في [س]: (يقترنها)، وفي [جـ]: (يغربها)، وفي [ط]: (يعرفها)، وفي [أ، هـ]: (يقربها).