مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق امرأته (فيعلمها) الطلاق ثم يراجعها ولا يعلمها الرجعة حتى تزوج باب: ایک شخص اپنی بیوی کو اعلانیہ طلاق دے اورپھر رجوع کرلے لیکن عورت کو رجوع کا علم نہ ہو اور وہ شادی کرلے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20000
٢٠٠٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم أن أبا (كنف) (١) طلق امرأته ثم سافر وراجعها وكتب إليها بذلك وأشهد على ذلك فلم (يبلغها) (٢) الكتاب حتى انقضت العدة فتزوجت المرأة فركب إلى عمر فقص عليه القصة فقال: أنت أحق بها ما لم يدخل بها (٣).مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوکنف رحمہ اللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر سفر پر چلے گئے اور بیوی سے رجوع کرلیا۔ اس کی طرف خط بھی لکھا اور اس رجوع پر گواہ بھی بنا لئے۔ عورت کو ان کا خط نہیں ملا اور عدت کے پورا ہونے پر اس نے شادی کرلی۔ ابو کنف رحمہ اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ عرض کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم اس عورت کے اس وقت تک زیادہ حقدار ہو جب تک وہ اس سے دخول نہ کرلے۔
حواشی
(١) في المغرب في ترتيب المعرب ٢/ ٢٣٤ أنه بفتحتين.
(٢) في [س، ع، هـ]: (أدركها).
(٣) منقطع، إبراهيم لم يدرك عمر.