مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق امرأته (فيعلمها) الطلاق ثم يراجعها ولا يعلمها الرجعة حتى تزوج باب: ایک شخص اپنی بیوی کو اعلانیہ طلاق دے اورپھر رجوع کرلے لیکن عورت کو رجوع کا علم نہ ہو اور وہ شادی کرلے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19997
١٩٩٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل (عن مطرف) (١) عن الشعبي عن عمير بن يزيد قال: كنت قاعدًا عند شريح، فجاء رجل يخاصم امرأة (فقالت) (٢): طلقني ولم يعلمني الرجعة حتى مضت عدتي، وتزوجت ودخل بي زوجي فقال شريح: ألا أعلمتها الرجعة كما أعلمتها الطلاق؟ فلم يردها عليه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کا جھگڑا لے کرآیا۔ عورت کہتی تھی کہ اس نے مجھے طلاق دی، لیکن رجوع کا نہ بتایا، یہاں تک کہ میری عدت گزر گئی اور میں نے شادی کرلی۔ میرے خاوند نے مجھ سے دخول بھی کرلیا۔ حضرت شریح رحمہ اللہ نے اس آدمی سے کہا کہ جیسے تم نے اسے طلاق کا بتایا تھا رجوع کا کیوں نہ بتایا ؟ ! پھر آپ نے عورت اسے واپس نہ کی۔
حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ك]: (قال).