مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في رجل طلق امرأته فحاضت حيضة أو حيضتين باب: اگر ایک آدمی اپنی بیوی کوطلاق دے اور پھر اسے ایک یا دوحیض آجائیں اور وہ عورت شادی کرلے تو کیا پہلے خاوند کے پاس رجوع کا حق ہوگا؟
حدیث نمبر: 19973
١٩٩٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مهدي عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم في رجل طلق امرأته تطليقة أو تطليقتين؛ فحاضت عنده حيضتين؛ ثم (تزوجها) (١) رجل فحاضت عنده حيضتين قال: بانت من الأول، ولا تحتسب به لمن بعده.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں، پھر اس کے پاس اسے دو حیض آئے اور پھر ایک آدمی نے اس سے شادی کی اور اس کے پاس اسے ایک حیض آیا تو وہ پہلے خاوند سے بائنہ ہوگئی اور اس کے بعد والے کو شمار نہیں کرے گی۔
حواشی
(١) في [س، هـ]: (زوجها)، وفي [أ، ب، جـ، ز]: (تزوجها).