مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في رجل طلق امرأته فحاضت حيضة أو حيضتين باب: اگر ایک آدمی اپنی بیوی کوطلاق دے اور پھر اسے ایک یا دوحیض آجائیں اور وہ عورت شادی کرلے تو کیا پہلے خاوند کے پاس رجوع کا حق ہوگا؟
حدیث نمبر: 19971
١٩٩٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى قال: سئل سعيد عن رجل تزوج امرأة في عدتها، ثم علم أنه تزوجها في عدتها، وقد انقضت عدتها (عنده) (١)، هل لزوجها (الأول) (٢) عليها رجعة، فحدثنا عن علي بن الحكم عن محمد بن (زيد) (٣) عن سعيد بن جبير أنه قال: يفرق بينهما، ولا رجعة عليها؛ لأن عدتها قد انقضت عند هذا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالاعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے اس کی عدت میں شادی کرے اور پھر اسے بعد میں معلوم ہو کہ وہ عورت عدت میں ہے تو کیا پہلے خاوند کو رجوع کا حق ہے ؟ انہوں نے سند بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرائی جائے گی اور مرد کو رجوع کا حق نہیں ہوگا کیونکہ عورت کی عدت اس کے پاس پوری ہوگئی۔
حواشی
(١) في [س]: (عندها).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [س، ط، هـ]: (يزيد).