مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في المتوفى عنها من قال: تعتد في بيتها باب: وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے جن حضرات کے نزدیک وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی
١٩٩٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن (سعد) (١) بن إسحاق عن زينب بنت كعب بن عجرة وكانت تحت أبي سعيد الخدري أن أخته (الفريعة) (٢) ابنة مالك (قالت: خرج زوجي) (٣) في طلب أعلاج له (فأدركهم) (٤) (بطرف) (٥) (القدوم) (٦) (فقتلوه) (٧) فجاء نعي زوجي وأنا في دار من دور الأنصار (شاسعة) (٨) عن دور أهلي فأتيت (النبي ﷺ) (٩) فقلت: (يا رسول) (١٠) اللَّه! إنه أتاني نعي زوجي وأنا في دار (١١) شاسعة (١٢) عن دار أهلي، ولم يدع (مالًا) (١٣) ينفق علي، ولا مال ورثته، ولا دار يملكها، فإن رأيت أن تأذن فألحق دار أهلي أو دار إخوتي، فإنه أحب إليّ وأجمع ⦗٣٨٢⦘ إليَّ بعض أمري (قال) (١٤): " (فافعلي) (١٥) ان شئت"! قالت: فخرجت قريرة (عين) (١٦) لما قضى اللَّه على لسان رسوله، حتى إذا كنت في المسجد أو في بعض الحجرة، دعاني (فقال) (١٧): "كيف زعمت؟ " قالت: فقصصت عليه القصة، فقال: "امكثي في بيتك الذي كان فيه (نعي) (١٨) زوجك، حتى يبلغ الكتاب أجله" (قالت) (١٩): (فاعتددت) (٢٠) فيه أربعة أشهر وعشرًا (٢١).حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن حضرت فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے خاوند اپنے عجمی غلاموں کی تلاش میں نکلے جو کہ فرار ہوگئے تھے۔ وہ انہیں مقام قدوم میں ملے جہاں انہوں نے میرے خاوند کو شہید کردیا۔ جب مجھے میرے خاوند کے انتقال کی خبر ملی تو اس وقت میں میں انصار کے ایک گھر میں تھی جو میرے اہل و عیال کے گھروں سے دور تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے عرض کیا کہ مجھے میرے خاوند کے انتقال کی خبر آپہنچی ہے اور میں ایک ایسے گھر میں ہوں جو میرے والدین اور میرے بھائیوں کے گھر سے دور ہے۔ میرے خاوند نے میرے لئے پیسے بھی نہیں چھوڑے جو مجھ پر خرچ کئے جائیں، نہ مال ہے جس کی میں وارث بنوں اور نہ ہی کوئی ایسا گھر ہے جس کے وہ مالک ہیں۔ اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں اپنے والدین اور اپنے بھائیوں کے گھر چلی جاؤں۔ یہ مجھے زیادہ پسند ہے اور اس میں میرے لئے زیادہ فائدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جو چاہو کرلو۔ حضرت فریعہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ سن کر میں اس حال میں باہرآئی کہ میری آنکھیں ٹھنڈی تھیں۔ پھر اس کے بعد میں مسجد میں تھی یا کسی کمرے میں تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ تم نے کیا فیصلہ کیا ؟ میں نے سارا واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا کہ اس گھر میں ہی ٹھہری رہو جس میں تمہارے خاوند کے انتقال کی خبر آئی تھی یہاں تک کہ مدت پوری ہوجائے۔ وہ فرماتی ہیں کہ پھر میں نے چار مہینے اور دس دن وہیں گزارے۔