مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
من رخص للمطلقة أنه تعتد في غير بيتها باب: جن حضرات کے نزدیک مطلقہ عدت میں اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ بھی کہیں رہ سکتی ہے
حدیث نمبر: 19930
١٩٩٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن بشر (قال: نا محمد بن عمرو) (١) قال: نا أبو سلمة عن فاطمة بنت قيس (قال) (٢): (كتبت) (٣) ذلك من فيها كتابًا، (قالت) (٤): كنت عند رجل من بني مخزوم فطلقني البتة، فقال لي رسول اللَّه ﷺ: ⦗٣٧٧⦘ " (انتقلي) (٥) إلى (٦) ابن (أمِّ) (٧) مكتوم فإنه رجل قد (ذهب) (٨) بصره، فإن وضعت شيئًا لم ير شيئا" (٩).مولانا محمد اویس سرور
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں بنومخزوم کے ایک آدمی کے نکاح میں تھی۔ انہوں نے مجھے حتمی طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر چلی جاؤ۔ وہ نابینا آدمی ہیں۔ اگر تم ضرورت کے تحت اپنے کپڑے اتارو گی تو بھی وہ کچھ نہ دیکھ سکیں گے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٢) في [ب]: (فأتت).
(٣) في [س]: (كتب).
(٤) في [س، ز، ك]: (قال).
(٥) في [ك]: (انتقل).
(٦) [جـ]: زيادة (بيت).
(٧) في [س]: سقطت (أم).
(٨) في [س]: (ذهبت).