مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في المرأة تزوج في عدتها ففرق بينهما، (تعتد، بأيهما) (تبدأ) باب: اگر کوئی عورت اپنی عدت میں شادی کرلے اورپھر میاں بیوی کے درمیان جدائی کرادی جائے تو وہ کس عدت کو پہلے گزارے گی؟
١٩٨٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن صالح بن (مسلم) (١) قال: قلت للشعبي: رجل طلق امرأته فجاءآخر فتزوجها؟ قال: (قال) (٢) عمر: يفرق بينهما، وتكمل عدتها الأولى (وتستأنف) (٣) (٤) من هذا عدة جديدة، ويجعل الصداق في بيت المال، ولا يتزوجها الثاني أبدا ويصير الأول خاطبًا (٥).حضرت صالح بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اور پھر عدت میں کوئی دوسرا آدمی اس سے شادی کرلے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔ اور وہ دوسرے خاوند سے نئے سرے سے عدت شروع کرے گی اور اس کا مہر بیت المال سے دیا جائے گا۔ دوسرا خاوند تو اس سے کبھی شادی نہیں کرسکتا اور پہلا خاوند پیام نکاح بھیج سکتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی۔ وہ پہلی عدت کو پورا کرے گی اور اس خاوند سے نئی عدت گزارے گی۔ وہ آدمی ہی اس کا مہر دے گا اور وہ دونوں اسے پیام نکاح بھجوا سکتے ہیں۔