حدیث نمبر: 19873
١٩٨٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن صالح بن (مسلم) (١) قال: قلت للشعبي: رجل طلق امرأته فجاءآخر فتزوجها؟ قال: (قال) (٢) عمر: يفرق بينهما، وتكمل عدتها الأولى (وتستأنف) (٣) (٤) من هذا عدة جديدة، ويجعل الصداق في بيت المال، ولا يتزوجها الثاني أبدا ويصير الأول خاطبًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت صالح بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اور پھر عدت میں کوئی دوسرا آدمی اس سے شادی کرلے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی۔ اور وہ دوسرے خاوند سے نئے سرے سے عدت شروع کرے گی اور اس کا مہر بیت المال سے دیا جائے گا۔ دوسرا خاوند تو اس سے کبھی شادی نہیں کرسکتا اور پہلا خاوند پیام نکاح بھیج سکتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے اور اس کے خاوند کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی۔ وہ پہلی عدت کو پورا کرے گی اور اس خاوند سے نئی عدت گزارے گی۔ وہ آدمی ہی اس کا مہر دے گا اور وہ دونوں اسے پیام نکاح بھجوا سکتے ہیں۔

حواشی
(١) في [ز]: (سلم).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ز، ط، ك].
(٣) في [ك]: (تأتنف)، وفي [أ، ب، جـ، ط]: (تأنيف).
(٤) في [س]: زيادة (وتأتنف).
(٥) منقطع، الشعبي لم يدرك عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19873
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19873، ترقيم محمد عوامة 19124)