حدیث نمبر: 19825
١٩٨٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا (ابن) (١) علية عن أيوب قال: [(سأل) (٢) الحكم ابن (عتيبة) (٣)] (٤) الزهري عن عدة أم الولد إذا توفي عنها سيدها، فقال: السنة، قال: (وما) (٥) السنة؟ (٦) قال (٧): (بريرة) (٨) أعتقت فاعتدت عدة (الحرة) (٩) (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ نے حضرت زہری رحمہ اللہ سے ام ولد باندی کے آقا کے انتقال کر جانے کے بعد اس کی عدت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں سنت ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا سنت ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا گیا تو انہوں نے آزاد عورت والی عدت گزاری تھی۔

حواشی
(١) سقط من: [ف].
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ز، ط، هـ]: (سألت).
(٣) في [أ، ب، ك]: (عيينة)، وفي [س]: (عنية)، وفي [ك]: (عتبة و).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [هـ].
(٥) في [أ، ب، ز، ك]: زيادة (وما).
(٦) في [هـ]: زيادة (قال السنة).
(٧) سقط من: [س، ط].
(٨) في [س]: (هريرة).
(٩) في [س]: (الحر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19825
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الزهري تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19825، ترقيم محمد عوامة 19078)