مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
من قال في المطلقة ثلاثا: لها النفقة باب: جن حضرات کے نزدیک تین طلاقیں دی گئی عورت کے لئے خاوند پر نفقہ واجب ہوگا
حدیث نمبر: 19723
١٩٧٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد قال: سألت سعيد بن المسيب عن (الرجل) (١) يطلق امرأته وهي (ببيت) (٢) بكراء (٣)، على من الكراء؟ قال: على زوجها، قال: فإن لم يكن عند زوجها (قال) (٤): (فعليها) (٥)، قال: فإن لم يكن عندها؟ قال: فعلى الأمير.مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اور وہ کسی کرائے کے گھر میں رہتی ہو تو کرایہ کس پر لازم ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کے خاوند پر، میں نے پوچھا کہ اگر اس کے خاوند کے پاس کرایہ نہ ہو تو کس پر واجب ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس عورت پر، میں نے عرض کیا کہ اگر اس عورت کے پاس بھی نہ ہو تو پھر کس پر واجب ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کہ امیر پر۔
حواشی
(١) في [ف، هـ]: (رجل).
(٢) في [أ، ب، ك]: (بنت)، وفي [جـ، س]: (في بيت).
(٣) في [أ، ب]: زيادة (قال).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ط، ك].
(٥) في [جـ]: (فعلها).