مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما كانت في الرجل يولي من المرأة (فتمضي) العدة ثم يطلق باب: اگر کوئی شخص بیوی سے ایلاء کرے، پھر عورت عدت گذارے اور وہ پھر اس کو طلاق دے دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19698
١٩٦٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا قال الرجل لامرأته وهي تعتد منه في الإيلاء أو طلاق: هي طالق (١) فإن ذلك جائز عليها، فإذا قال: أنت طالق بعد ما انقضت عدتها فليس بشيء، يطلق ما لا يملك.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کی بیوی ایلاء یا طلاق کی عدت گذار رہی ہو اور عدت کے دوران آدمی اسے پھر طلاق دے دے تو طلاق درست ہے، اگر اس نے عدت گذرنے کے بعد طلاق دی تو اس طلاق کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، ز، ط، ك]: (طلاق).