حدیث نمبر: 19625
١٩٦٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير عن حنظلة قال: سمعت القاسم ابن محمد وسئل عن الإيلاء قال: يوقف فيقال للذي يسأله: هل طلقت؟ قال: (لا) (١) ولكن يدعو الإمام فإما أن يفيء وإما أن يفارق.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حنظلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے ایلاء کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا ایلاء کا فیصلہ مُوْلِی پر موقوف ہوگا کہ اس سے سوال کیا جائے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ امام بلائے گا اور پھر اس کے سامنے چاہے تو رجوع کرلے اور چاہے تو طلاق دے دے۔

حواشی
(١) سقط من: [ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19625
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19625، ترقيم محمد عوامة 18896)