حدیث نمبر: 1955
١٩٥٥ - حدثنا حماد بن خالد عن معاوية بن صالح عن عياض بن عبد اللَّه القرشي عن يزيد بن أبي حبيب: أن أبا عبيدة بن الجراح بعث عقبة بن عامر الجهني إلى عمر بن الخطاب (بفتح) (١) دمشق فخرج يوم الجمعة، وقدم يوم الجمعة، فسأله عمر: متى خرجت؟ فأخبره، (وقال) (٢): لم أخلع لي خفا مذ خرجت، قال عمر: قد أحسنت (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یزید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے حضرت عقبہ بن عامر کو فتح دمشق کی خبر سنانے کے لیے حضرت عمر کے پاس بھیجا، وہ جمعہ کے دن روانہ ہوئے اور جمعہ کے دن ان کے پاس پہنچے۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا کہ تم کب روانہ ہوئے تھے ؟ انہوں نے بتایا یہ بھی بتایا کہ جب سے میں روانہ ہوا ہوں میں نے موزے نہیں اتارے۔ حضرت عمر نے فرمایا تم نے ٹھیک کیا۔

حواشی
(١) في [أ]: (يفتح): بالياء.
(٢) في [أ، خ]: (أو قال).
(٣) منقطع؛ يزيد بن أبي حبيب لا يروي عن أبي عبيدة، وأخرجه ابن ماجه (٥٥٨) والدارقطني ١/ ١٩٥ والمزي ٧/ ١٠٧.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1955
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1955، ترقيم محمد عوامة 1949)