مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في المختلعة، لزوجها أن يراجعها؟ باب: خلع یافتہ عورت کا خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 19542
١٩٥٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا مروان بن معاوية عن (حبيب) (١) بن مهران (التيمي) (٢) قال: سألت عبد اللَّه بن أبي أوفى عن امرأة اختلعت من زوجها (ببقية) (٣) مهر كان لها عليه، فهل لهما أن يتراجعا؟ قال: نعم! إن لم يكن ذكر (فيه) (٤) طلاقا؛ بمهر (جديد) (٥) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ اگر کسی عورت نے اپنے خاوند سے باقی ماندہ مہر کے عوض خلع کی تو کیا وہ رجوع کرسکتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ ہاں اگر طلاق کا ذکر نہ کیا ہو نئے مہر کے ساتھ رجوع کرسکتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ماہان رحمہ اللہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں خواہ پانی کی ایک صراحی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔
حواشی
(١) في [س، ط، هـ]: (جبير).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ز، ط، ك، هـ]: (التميمي)، وانظر: التاريخ الكبير ٢/ ٣٢٤، والجرح والتعديل ٣/ ١٠٩، والكنى للدولابي ٢/ ٧٥٣، والمقتنى ٢/ ٦٠، والثقات ٤/ ١٤١.
(٣) في [أ، ب]: (بتقية).
(٤) سقط من: [أ، ب]، وفي [ط، هـ]: (فيها).
(٥) في [أ]: (حديد).