مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل، متى يطيب له أن يخلع امرأته؟ باب: آدمی کے لئے اپنی بیوی کو خلع کا کہنا کب درست ہے؟
حدیث نمبر: 19448
١٩٤٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عليه عن ابن (جريج) (١) عن هشام (أن) (٢) ⦗٢٦٩⦘ عروة كان يقول: لا يحل له الفداء حتى يكون الفساد من قبلها ولم يكن يقول: لا تحل له حتى تقول: لا أبر لك قسمًا ولا أغتسل (لك) (٣) من جنابة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ فدیہ اس وقت تک درست نہیں جب تک فساد عورت کی طرف سے نہ ہو، وہ یہ نہیں فرمایا کرتے تھے کہ فدیہ اس وقت تک درست نہیں جب تک عورت یہ نہ کہے کہ میں تیری قسم کو پورا نہیں کروں گی اور تیرے لئے غسل جنابت نہ کروں گی۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، ط، ك]: (جريح).
(٢) في [أ، س، هـ]: (بن)، وانظر: تفسير ابن جرير ٢/ ٤٦٣، وفتح الباري ٩/ ٢٩٨، والمدونة ٥/ ٣٤١.
(٣) سقط من: [هـ].